یا مصطفی کرم کیجئے خدا کے واسطے‘‘ کہنے کا حکم
✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔
♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 24 ♻️
’’یا مصطفی کرم کیجئے خدا کے واسطے‘‘ کہنے کا حکم
سوال:: - کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ایک شخص اپنی دعا میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے: ’’یا مصطفی کرم کیجئے خدا کے واسطے‘‘ تو اس طرح دعا کرنا کیسا ہے؟ اور کوئی شخص اس طرح دعا کرنے سے انکار کرتا ہے اور اپنی دعا میں اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرتا تو کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی شمار ہوگی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں تسلی بخش جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا وباللّٰہ التوفیق:
’’یا مصطفی کرم کیجئے‘‘ کے الفاظ سے دعا کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اور اس طرح کے الفاظ کے ساتھ دعا کرنا خلیفہ رسول حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور صحابی رسول، تابعین، یا تبع تابعین رحمہم اللہ سے ثابت ہے اور نہ ہی امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ سے ثابت ہے، تو کیا ان حضرات کے مذکورہ الفاظ کے ساتھ دعا نہ کرنے کی وجہ سے ان حضرات کو بھی گستاخ رسول کہا جائے گا؟ ہرگز نہیں، بلکہ دعا کا سنت طریقہ وہی ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت ہے، جس کا ذکر حدیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے اس کے بعد سید الکونین کی خدمت میں درود پاک پیش کیا جائے، پھر اپنی مراد مانگی جائے۔
عن فضالۃ بن عبید قال: بینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاعد إذ دخل رجل فصلی، فقال: اللہم اغفرلي وارحمني، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عجلت أیہا المصلي، إذا صلیت فقعدت فاحمد اللہ بما ہو أہلہ، وصل علي ثم ادعہ، قال: ثم صلی رجل آخر بعد ذلک فحمد اللہ وصلی علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فقال لہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم: أیہا المصلي! ادع تجب۔(ترمذي، أبواب الدعوات، باب بلا ترجمۃ، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۱۸۵-۱۸۶، دارالسلام، رقم: ۳۴۷۶)
حدثني أبو ہاني: أن عمرو بن مالک أخبرہ أنہ سمع فضالۃ بن عبید، یقول: سمع النبي صلی اللہ علیہ وسلم رجلا یدعو في صلاتہ، فلم یصل علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: عجل ہذا، ثم دعاہ، فقال لہ أو لغیرہ: إذا صلی أحدکم فلیبدأ بتحمید اللہ والثناء علیہ، ثم لیصل علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، ثم لیدع بعد ماشاء۔ (ترمذي، الدعوات، باب بلا ترجمۃ، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۱۸۶، دارالسلام، رقم: ۳۴۷۷)
#فقط_واللہ_سبحانه_وتعالی_اعلم_بالصواب
≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅
#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگا_نــہ_بــنــیـں_
#جـــزاکـــم_الــلــہ_خـــیــرا
#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#مــنــتــظــم_مــدلـل_احــکــام_ومــســائــل_گـــروپ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_
مؤرخہ: ۴/۶/۱۴۳۹
مطابق /23 مـارچ 2018
*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
چینل لنک
①http://T.me/masail_abdulbari
②http://T.me/quran_and_ahadeth
*_____________________________*
*Email id,*
Abdulbariararia9760.gmail.com
*______________________________*
*========================*
*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓
abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*
Comments
Post a Comment