جہری نماز میں سورہ فاتحہ کی دو آیت آہستہ پڑھنا
✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔
♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 34 ♻️
جہری نماز میں سورۂ فاتحہ کی دو آیت آہستہ پڑھنا؟
ســوال: :: کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی امام ے جہری نماز میں دوسری رکعت کے اندر سورۂ فاتحہ کی دو آیت آہستہ آواز سے قرأت کی، پھر یاد آنے یا لقمہ دینے پر سورۂ فاتحہ از سرنو جہراً پڑھنی شروع کردی، تو کیا اس حالت میں سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر اس حالت میں سجدۂ سہو نہیں کیا تو کیا نماز کا اعادہ واجب ہوگا یا نہیں؟
※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا وباللّٰہ التوفیق:
:یہاں دو باتیں قابل غور ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ جہر کی جگہ سر اور سر کی جگہ جہر کرنا، تو اس میں اصول یہ ہے کہ اگر تین چھوٹی آیتوں کے بقدر (جن کے کم سے کم حروف ۳۰؍ہیں) جہر کی جگہ سر اور سر کی جگہ جہر کرے، تو اس بنیاد پر سجدۂ سہو واجب ہوگا، اور اگر اس سے کم الفاظ میں مخالفت ہوئی تو سجدۂ سہو واجب نہ ہوگا، اس اعتبار سے سورۂ فاتحہ کی دو ابتدائی آیتوں کے حروف ۳۲ بنتے ہیں؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں اس نے ازسر نو آیات پڑھ کر تکرار فاتحہ کا ارتکاب کیا ہے، تو اس سلسلہ میں ایک اصول یہ ہے کہ اگر سورۂفاتحہ کا اکثر حصہ مکرر پڑھا، تو سجدۂ سہو وجب ہوگا ورنہ نہیں، اور یہ مقدار سورۂ فاتحہ کی دو ابتدائی آیتوں میں پوری نہیں ہوتی؛ اس لئے یہ وجہ موجبِ سجدۂ سہو نہیں ہے۔
📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
أخرج ابن أبي شیبۃ عن إبراہیم قال: إذا جہر فیما یخافت فیہ، أو خافت فیما یجہر فیہ، فعلیہ سجدتا السہو۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۳؍۲۴۵ رقم: ۳۶۴۹)
والجہر فیما یخافت فیہ للإمام وعکسہ لکل مصل في الأصح، والأصح تقدیرہ بقدر ما تجوز بہ الصلاۃ في الفصلین، قال ابن عابدین تحت قولہ ’’الأصح‘‘ صححہ في الہدایۃ والفتح والتبیین والمنیۃ؛ لأن الیسیر من الجہر والإخفاء لا یمکن الاحتراز عنہ۔ (شامي، الصلاۃ / باب سجود السہو ۲؍۵۴۵ زکریا)
لو کرر الفاتحۃ أو بعضہا في أحد الأولیین قبل السورۃ سجد للسہو۔ (طحطاوي ۲۵۰)
وکذا لو قرأ أکثرہا ثم أعادہا کما في الظہیریۃ۔ (شامي ۲؍۱۵۲ زکریا)
وعن أبي یوسف إذا جہر فیما یخافت یجب وإن کان حرفاً، وإن خافت فیما یجہر لا یجب۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ، الصلاۃ / سجود السہو ۲؍۳۹۵ رقم: ۲۷۷۶ زکریا)
والصحیح ظاہر الروایۃ وہو التقدیر بما تجوز بہ الصلاۃ من غیر تفرقۃ؛ لأن القلیل من الجہر في موضع المخافتۃ عفو أیضا۔ (کبیري ۴۵۷، البحر الرائق ۲؍۹۶، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۲۸)(کتاب النوازل۵۴۳/۳)
#فقط_واللہ_سبحانه_وتعالی_اعلم_بالصواب
≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅
#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگا_نــہ_بــنــیـں_
#جـــزاکـــم_الــلــہ_خـــیــرا
#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#مــنــتــظــم_مــدلـل_احــکــام_ومــســائــل_گـــروپ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_
مؤرخہ: ۷/۷/۱۴۳۹
مطابق /26 مـارچ 2018
*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
چینل لنک
①http://T.me/masail_abdulbari
②http://T.me/quran_and_ahadeth
*_____________________________*
*Email id,*
Abdulbariararia9760.gmail.com
*______________________________*
*========================*
*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓
abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*
Comments
Post a Comment