اللہ سے براہ راست مانگیں یاوسیلہ سے ـ
✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔
♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 36 ♻️
ﷲ سے براہ راست مانگیں یا وسیلہ سے؟
سوال::: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ بندہ ایک بریلوی سے ملا، انہوں نے کہا تم ایک دم اللہ سے مانگا کرتے ہو، پھر یہ بھی کہا کہ تم بزرگوں سے وسیلہ لے کر نہیں مانگتے ہو، پھر وہ بدعتی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم پہلے بزرگ سے بولتے ہیں، پھر وہ بزرگ دوسرے بزرگ غوث اعظم وغیرہ کو کہتے ہیں، پھر وہ اللہ کے نبی کو کہتے ہیں، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے عرض کرتے ہیں، اس طرح قبولیت کا بہت بڑا ذریعہ بنتا ہے اور قبول ہو بھی جاتا ہے، پھر انہوں نے مثال دیا کہ تم کو بادشاہ سے ملنا ہو تو وہاں کے آدمی سے ملنا پڑے گا، اس کے بعد وزیر سے ملنا پڑے گا، ورنہ دائریکٹ (براہِ راست) ملنا مشکل اور ادھورا رہے گا، اسی طرح زینہ سے چڑھنا پڑے گا اوپر جانا ہو تو، اس طرح کی مثال دی تھی۔ پھر کہا تمہارا عقیدہ صحیح نہیں ہیے، بندہ کو ان لوگوں کی باتیں سمجھ میں نہیں آرہی تھیں، آپ حوالوں سے جواب تحریر فرمائیں۔
※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا وباللّٰہ التوفیق:
: اللہ تعالیٰ سے بغیر کسی وسیلہ اور توسل کے براہ راست دعا مانگنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور وسیلہ کے ذریعہ مانگنا بھی جائز اور درست ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے یا صاحب نسبت متبع شریعت مشائخ اور ولی کے وسیلہ سے بھی اللہ سے دعا مانگنا جائز ہے۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ براہ راست اللہ سے دعا مانگنا صحیح نہیں ہے؛ بلکہ وسیلہ ہی سے مانگنا ضروری ہے، تو وہ شخص اسلام اور شریعت سے ناواقف ہے؛ کیوں کہ شریعت میں دونوں طرح جائز ہے۔
📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ۔ [غافر: ۶۰]
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ۔ [البقرۃ: ۱۸۶]
ادْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً۔ [الأعراف: ۵۵]
وفي التکملۃ: وفي ہذا الحدیث دلیل علی جواز التوسل برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی اللہ عز وجل مع اعتقاد أن الفاعل ہو اللہ سبحانہ وتعالیٰ، وأنہ المعطي المانع ماشاء کان ومالم یشأ لم یکن۔ (تکملہ فتح الملہم، کتاب الرقاق، مسألۃ التوسل في الدعاء، أشرفیہ ۵/ ۶۲۳)
#فقط_واللہ_سبحانه_وتعالی_اعلم_بالصواب
≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅
#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگا_نــہ_بــنــیـں_
#جـــزاکـــم_الــلــہ_خـــیــرا
#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#مــنــتــظــم_مــدلـل_احــکــام_ومــســائــل_گـــروپ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_
مؤرخہ: ۱۸/۷/۱۴۳۹
مطابق /6 اپریل 2018
*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
چینل لنک
①http://T.me/masail_abdulbari
②http://T.me/quran_and_ahadeth
*_____________________________*
*Email id,*
Abdulbariararia9760.gmail.com
*______________________________*
*========================*
*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓
abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*
Comments
Post a Comment