آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد آپ کےوسیلہ سےدعامانگنا

✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔

♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 38 ♻️

آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ا کے وسیلہ سے دعا مانگنا

سوال:: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے وسیلہ سے دعا کرنا ثابت ہے یانہیں؟

※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※

باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا  وباللّٰہ التوفیق:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا مانگنا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ بلا وجہ قبل الوفات اور بعد الوفات میں فرق کرنا نہایت بے انصافی کی بات ہے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب نبوت اور نبی الرحمہ کا جو درجہ عطا فرمایا ہے آپ کی وفات کے بعد اس منصب نبوت اور نبی الرحمہ کے درجہ اور عظمت شان میں کوئی فرق آیا ہے؟ ہر گز نہیں، جو اس کا دعوی کریں وہ قرآن وحدیث سے ثابت کردیں، ورنہ اپنے ایمان اور عقیدہ کی خیر منائیں، ہر مؤمن کا عقیدہ یہ ہونا ضروری ہے کہ قبل الوفات اور بعد الوفات دونوں حالتوں میں آپ کی منصب نبوت اور عظمت شان بدستور باقی ہے؛ اسی لئے آپ کی وفات کے بعد بھی منصب نبوت اور نبی الرحمہ کے وسیلہ سے دعا مانگنا بلا شبہ جائز ہے۔ حضرت عثمان بن حنیف کی روایت اور ابو صالح سمان عن مالک الداری کی روایت سے واضح طور پر اس کا ثبوت ملتا ہے۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚

عن أبي أمامۃ بن سہل بن حنیف، عن عمہ عثمان بن حنیف: أن رجلا، کان یختلف إلی عثمان بن عفان -رضي اللہ عنہ- في حاجۃ لہ، فکان عثمان لا یلتفت إلیہ ولا ینظر في حاجتہ، فلقي ابن حنیف فشکی ذلک إلیہ، فقال لہ عثمان بن حنیف ائت المیضأۃ فتوضأ، ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین، ثم قل: اللہم إني أسألک وأتوجہ إلیک بنبینا محمد نبی الرحمۃ، یا محمد، إني أتوجہ بک إلی ربي، فتقضي لي حاجتي۔ (المعجم الکبیر، دار احیاء التراث العربي بیروت ۹/ ۳۱، رقم: ۸۳۱۱)
عن مالک الدار قال: وکان خازن عمر علی الطعام، قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلی قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: یا رسول اللہ! استسق لأمتک فإنہم قد ہلکوا، فأتی الرجل في المنام، فقیل لہ: ائت عمر فأقرئہ السلام، وأخبرہ أنکم مسقیون، وقل لہ: علیک الکیس، علیک الکیس، فأتی عمر فأخبرہ، فبکی عمر، ثم قال: یا رب لا آلو إلا ما عجزت عنہ۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما ذکر في فضل عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ، مؤسسۃ علوم القرآن، جدید ۱۷/ ۶۴، رقم: ۳۲۶۶۵)

#فقط_واللہ_سبحانه_وتعالی_اعلم_بالصواب

≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅

#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگار_نــہ_بــنــیـں_

#جـــزاکـــم_الــلــہ_خـــیــرا
#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#مــنــتــظــم_مــدلـل_احــکــام_ومــســائــل_گـــروپ

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_

مؤرخہ: ۱۸/۷/۱۴۳۹
مطابق /6 اپریل 2018

*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
http://T.me/FATAWA_AZIZIA

*_____________________________*

*Email id,*

Abdulbariararia9760.gmail.com
*______________________________*

*========================*

*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓

abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*

Comments

Popular posts from this blog

وضو کا حکم کب نازل ہوا