مزارات کا سفر اور اولیاءاللہ کے وسیلہ سے دعائیں مانگنا

✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔

♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 59♻️

مزارات کا سفر اور اولیاء ﷲ کے وسیلہ سے دعائیں مانگنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ زید بزرگان دین کے مزاروں پر وقتاً فوقتاً حاضری دینے کے لئے جایا کرتا ہے، کیا قصداً کسی مزار کے لئے سفر کرکے جانا جائز ہے اور وہاں جاکر ان کے وسیلہ سے کوئی منت مانگنا جائز ہے یانہیں؟ یا اس طرح کہنا (صاحب قبر سے) کہ ’’آپ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالیٰ سے میری سفارش کردیجئے کہ میرا فلاں کام ہوجائے‘‘ جائز ہے یانہیں؟

※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※

باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا  وباللّٰہ التوفیق
: خلاف شرع امور کا ارتکاب نہ کیا جائے، اگر مزار بہت زیادہ دور ہے یا دوسرے ملک میں ہے اور صرف اس کیزیارت ہی مقصود ہے کوئی دوسری دینی یا معاشی ضرورت نہیں ہے، تو اس کی شرعاً گنجائش نہیں ہے؛ البتہ اگر اپنے ملک میں ہے اور بہت زیادہ صرفہ کا باعث بھی نہیں ہے، تو ایسی صورت میں زیارت کے لئے سفر کی شرعاً اجازت ہے۔
اولیاء کرام اور بزرگان دین کو اپنی دعاؤں میں وسیلہ بنانا جائز ہے، خواہ مزار پر جاکر دعا کریں یا گھر پر رہ کر۔

قبر کے پاس جاکر کہنا کہ ’’آپ میری اللہ تعالیٰ سے سفارش کر دیجئے‘‘ شریعت سے ثابت نہیں ہے؛ بلکہ بدعت ہے۔

📚📚📚📚والدلیل علی ماقلنا📚📚📚📚
(مستفاد: فتاوی محمودیہ قدیم ۱/ ۱۲۳، جدید ڈابھیل ۹/ ۲۰۰)
عن سلیمان بن بریدۃ، عن أبیہ قال: قال رسول اللہ ﷺ قد کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور، فقد أذن لمحمد في زیارۃ قبر أمہ، فزوروہا؛ فإنہ تذکر الآخرۃ۔ (سنن الترمذي، الجنائز، باب ماجاء في الرخصۃ في زیارۃ القبول، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۰۳، دارالسلام، رقم: ۱۰۵۴، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم، بیروت ۱۰/ ۲۷۱، رقم: ۴۳۷۳، المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الجنائز، باب من رخص في زیارۃ القبور، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۷/ ۳۶۷، رقم: ۱۱۹۳۱)

(مستفاد: امداد الفتاوی زکریا ۵/ ۳۳۹، فتاوی رشیدیہ قدیم: ۱۴۲، جدید زکریا: ۲۹)
أن التوسل بجاہ غیر النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا بأس بہ أیضا، إن کان المتوسل بجاہہ مما علم أن لہ جاہا عند اللہ تعالیٰ کالمقطوع بصلاحہ وولایتہ۔ (روح المعاني زکریا، سورۃ المائدۃ: ۳۳-۳۵، ۴/ ۱۸۷)

(مستفاد: فتاوی رشیدیہ ۵۷-۵۸)
وفي حدیث طویل: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا سألت فاسأل اللہ، وإذا استعنت فاستعن باللہ۔ (مسند أحمد بن حنبل ۱/ ۳۰۳، رقم: ۲۷۶۳، ۱/ ۲۹۳، رقم: ۲۶۶۹)

#فقط_واللہ____اعلم____بالصواب

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#منتظم_گروپ_مدلـل_احـکـام_و_مسائل
#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگار_نــہ_بــنــیـں_
🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_

مؤرخہ: ۱۱/۸/۱۴۳۹
مطابق /28::اپریل 2018
*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
چینل لنک   
①http://T.me/mudallalahkamo_masail
②http://T.me/masail_azizia
*_____________________________*

*Email id,*

Abdulbariararia9760@gmail.com

*========================*

*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓

abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*

Comments

Popular posts from this blog

وضو کا حکم کب نازل ہوا