ہبہ کرکے واپس لےلینا کیسا ہے

✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔

♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 47♻️

ہبہ کرکے واپس لےلینا کیسا ہے ـ

سوال… کیا فرماتیں ہے علمائےدین ومتین مسئلہ ذیل کےبارے مین  کہ ـ کسی کو ہدیہ دینے کے بعد اسسے رجوع کرنا واپس لینا شرعا کیساہے  حوالہ کے سات جواب مطلوب ہے؟

※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※

باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا  وباللّٰہ التوفیق:

حدیث نمبر: 3538

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " قَالَ هَمَّامٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے“۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے (یہ بھی)کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں (تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا) ۔

تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الھبة ۱۴ (۲۵۸۸)، صحیح مسلم/الھبة ۲ (۱۶۲۲)، سنن النسائی/الھبة ۲ (۳۶۷۲)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ۵ (۲۳۸۵)، (تحفة الأشراف: ۵۶۶۲)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ۶۲، (۱۲۹۹)، مسند احمد (۱/۲۵۰، ۲۸۰، ۲۸۹، ۲۹۱، ۳۳۹، ۳۴۲، ۳۴۵، ۳۴۹) (صحیح)

قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تحكيم و تخریج الحدیث

حدیث نمبر: 3539

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ ".

عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ۱؎، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے)واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے“۔

تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع ۶۲ (۱۲۹۹)، الولاء والبراء ۷ (۲۱۳۲)، سنن النسائی/الھبة ۲ (۳۷۲۰)، سنن ابن ماجہ/الھبات ۱ (۲۳۷۷)، (تحفة الأشراف: ۵۷۴۳، ۷۰۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۷، ۷۸) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: چونکہ باپ اور بیٹے کا مال ایک ہی ہے اور اس میں دونوں حقدار ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دے اس لئے واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تحكيم و تخریج الحدیث

حدیث نمبر: 3540

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍحَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ، فَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوَقَّفْ، فَلْيُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ، ثُمَّ لِيُدْفَعْ إِلَيْهِ مَا وَهَبَ ".

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ”ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، (اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے“۔

تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الھبات۲ (۲۳۷۸)، سنن النسائی/الہبة ۲ (۳۷۱۹)، (تحفة الأشراف: ۸۷۲۲، ۸۶۶۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۷۵) (حسن صحیح)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

مزید تحكيم و تخریج الحدیث

≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅

#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگار_نــہ_بــنــیـں_

#جـــزاکـــم_الــلــہ_خـــیــرا
#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#مــنــتــظــم_مــدلـل_احــکــام_ومــســائــل_گـــروپ

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_

مؤرخہ: ۲۰/۷/۱۴۳۹
مطابق

/8 اپریل 2018

*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
http://T.me/FATAWA_AZIZIA

*_____________________________*

*Email id,*

Abdulbariararia9760.gmail.com
*______________________________*

*========================*

*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓

abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*

Comments

Popular posts from this blog

وضو کا حکم کب نازل ہوا