اولیاء اللہ کے وسیلہ سے دعا مانگنا
✔🌷 ســـوال و جـــــــواب 🌷✔
♻️ مــــــســـئـــلـــہ نــمــبــر 43 ♻️
اولیاء ﷲ کے وسیلہ سے دعا مانگنا
سوال ::: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ کسی بزرگ کو دعا کے اندر وسیلہ بنانا درست ہے یانہیں؟ دراں حالیکہ وہ بزرگ مر چکے ہوں، اگر درست ہے تو اس حدیث کیا مطلب ہوگا جو بخاری کے اندر ’’باب الاستسقاء‘‘ میں ہے؟ راوی حضرت انس ہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے دعا کروایا نہ کہ حضور کو وسیلہ بنایا۔ اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے جواب عنایت فرمائیں، اگر مردہ کو وسیلہ بنانا درست ہو تا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور کو وسیلہ بناتے نہ کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بناتے
※ بـســم الـلـہ الـرحـمـن الــرحـیـم ※
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب حامداومصلیا وباللّٰہ التوفیق:
گذرے ہوئے بزرگوں اور اولیاء اللہ کے توسل سے دعا مانگنا جائز اور ثابت ہے، یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔
اور جس حدیث شریف میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے توسل سے دعا مانگنا ثابت ہے، اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غیر نبی جو مقبول ہو اس کے وسیلہ سے بھی دعا مانگنا درست ہے، نیز حضور کی وفات کے بعد حضور کے توسل سے مانگنا حدیث اور اجماع سے ثابت ہے۔
📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
فالتوسل والتشفع والتجوہ والإستغاثۃ بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم وسائر الأنبیاء والصالحین لیس لہا معنی في قلوب المسلمین غیر ذلک، ولا یقصد بہا أحد منہم سواہ فمن لم ینشرح صدرہ لذلک فلیبک علی نفسہ۔ (شفاء السقام ۱۲۹، بحوالہ تسکین الصدور ۴۰۴)
قلت: فکیف لا یستشفع ولا یتوسل بمن لہ ہذا المقام والجاہ عند مولاہ، بل یجوز التوسل بسائر الصالحین کما قالہ السبکی۔ (وفاء الوفاء ۲/ ۴۲۲، بحوالہ تسکین الصدور ۴۰۷)
ویجوز التوسل إلی اللہ تعالی والاستغاثۃ بالأنبیاء والصالحین بعد موتہم۔ (بریقۃ محمودیہ ۱/ ۲۷۰، بحوالہ تسکین الصدور ۴۳۵)
ویستفاد من قصۃ العباسؓ استحباب الاستشفاع بأہل الخیر والصلاح وأہل بیت النبوۃ۔ (فتح الباري، الاستسقاء، زکریا ۲/ ۶۳۲، بیروت قدیم ۳/ ۱۵۱، عمدۃ القاري، کتاب الاستسقاء، باب سوال الناس الإمام، زکریا ۵/ ۲۵۶، بیروت قدیم ۷/ ۳۳) أن رجلا کان یختلف إلی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ في حاجۃ لہ فکان عثمان رضی اللہ عنہ لا یلتفت إلیہ، ولا ینظر في حاجتہ، فلقي عثمان بن حنیف، فشکی ذلک إلیہ، فقال لہ عثمان بن حنیف: ائت المیضأۃ، فتوضأ، ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین، ثم قل: اللہم إني أسألک وأتوجہ إلیک بنبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی الرحمۃ۔ (المعجم الصغیر قدیم: ۱۰۴، جدید ۱/ ۳۰۶، رقم: ۵۰۸، المعجم الکبیر ۹/ ۳۱، رقم: ۸۳۱۰، شفاء السقام ۱۲۴، وفاء الوفاء ۲/ ۴۲۰، بحوالہ تسکین الصدور ۴۳۵)
#فقط_واللہ_سبحانه_وتعالی_اعلم_بالصواب
≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅≅
#اس_میں_کسی_قــســم_کـی_تبدیلی_کـرکے_گنہگار_نــہ_بــنــیـں_
#جـــزاکـــم_الــلــہ_خـــیــرا
#_کتبہ_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی
#مــنــتــظــم_مــدلـل_احــکــام_ومــســائــل_گـــروپ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
#رابــــــطـــہ_نـــمـــبـــر⇙⇓*
#_*📲:-9760624634*_
مؤرخہ: ۱۸/۷/۱۴۳۹
مطابق /6 اپریل 2018
*ٹــیـلـی گـرام چـیـنـل 👇🏻*
http://T.me/FATAWA_AZIZIA
*_____________________________*
*Email id,*
Abdulbariararia9760.gmail.com
*______________________________*
*========================*
*گــوگـل 🆔*
مزید معلومات کےلئے میرے ویب سائٹ پر کلک کریں ⇓
abdulbariedits.blogspot.in/?m=1
*=========================*
*دینی مـسـائـل عـام کـرنا ثــواب جـاریــہ ہے*
Comments
Post a Comment