مرنےکے بعد عقیقہ کا حکم
مرنے کے بعد عقیقہ کا حکم
سوال السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ،
کیافرماتےہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارےمیں کہ، مرےہوئے کی طرف سے عقیقہ کرسکتے ہے یا نہیں، (المستفتی قاری محمد ارشاد ارریہ بہار)
*جـــواب نــمــبــر 1:*
*الجواب وباللّٰہ التوفیق*
عقیقہ زندگی میں کیاجاتاہے، مرنے کےبعد عقیقہ کامستحب ہونا ثابت نہی ہے، اگر مردہ بچہ کے عقیقہ کو مستحب نہ سمجھا جائے، محض شفاعت کی امید اور مغفرت کی لالچ سے کردیا جائے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے، جیسے کسی نے حج نہیں کیا اور بلا وصیت مرگیا، اور وارث نے اس کی مغفرت کی امید پراپنے خرچ سے حج بدل کیا،تو امید ہےکہ حق تعالیٰ قبول فرمائے اس صورت میں عقیقہ کا جانور مستقل ہو، احتیاطا قربانی کے جانور میں شرکت نہ کرے-
واللہ اعلم بالصواب
==============================
*✍ کتبہ عبدالباری عزیز ارریہ وی*
*خادم و منتظم مدلل احکام ومسائل گروپ*
*_خـادم نائب ناظـم و تـدریـس/ مـدرسـتـہ الـمـسـاکــیــن صــدیــقیــہ بــسـگڑہ ارریـہ بہار_*
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
_بـتـاریـخ -۷- ذالحجہ: ۱۴۳۹ ھ_
_مـطـابـق -19- اگست: 2018_
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
*تبدیلی کرکے گنہگار نہ بنتے ہوئے اس کو اسی طرح آگےبھی شئیر کرے*
http://T.me/mudallalahkamomasail
www.abdulbariedits.blospot.com
Comments
Post a Comment