قربانی کا جانور کسی دوسرے کے نام سے ذبح کرنا،
قربانی کا جانور کسی دوسرے کے نام سے ذبح کرنا.
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ،
ســوال : کیافرماتےہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارےمیں کہ،
کیا صاحب نصاب اپنے نام کے بجائے کسی دوسرے کے نام سے قربانی کرسکتا ہے
یا کسی دوسرے کے نام سے زکاۃ دے سکتا ہے ؟ (المستفتی شـمـس تبریز )
*جـــواب نــمــبــر 2:*
*الجواب وباللّٰہ التوفیق*
بکر کی قربانی اُسی وقت ادا ہوگی جب کہ قربانی میں اُس کا نام لیا جائے، دوسروں کا نام لینے سے اس کا وجوب ساقط نہ ہوگا، اور جب تک بکر اپنا مال اور کاروبار اہل وعیال پر تقسیم نہ کرے اُس وقت تک صرف وہی مالک ہے، اور صرف اُسی پر قربانی واجب ہے، ہاں اگر بچے یا دیگر رشتہ داروں کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو، تو اُن پر الگ سے قربانی کا وجوب ہوگا۔
👇📚📚 والدلیل علی ماقلنا 📚📚👇
فتجب التضیحۃ علی حرٍ مسلمٍ مقیمٍ موسرٍ عن نفسہٖ لا عن طفلہ۔ (تنویر الأبصار علی الدر المختار ۶؍۳۱۳-۳۱۵ کراچی، ۹؍۴۵۷ زکریا)
ذکر في فتاویٰ أبي اللیث رحمہ اللّٰہ: إذا ضحیٰ بشاۃ نفسہ عن غیرہ بأمر ذٰلک الغیر أو بغیر أمرہ لا تجوز؛ لأنہ لا یمکن تجویز التضحیۃ عن الغیر إلا بإثبات الملک لذٰلک الغیر في الشاۃ، ولن یثبت الملک لہ في الشاۃ إلا بالقبض، ولم یوجد قبض الآمر ہٰہنا لا بنفسہ ولا بنائبہ، کذا في الذخیرۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الأضحیۃ / الباب السابع في التضحیۃ عن الغیر وفي التضحیۃ بشاۃ الغیر عن نفسہ ۵؍۳۰۲ دار إحیاء التراث العربي بیروت، کذا في الخانیۃ / فصل فیما یجوز في الضحایا وما لا یجوز ۳؍۳۵۲ زکریا، المحیط البرہاني / الفصل السابع في التضحیۃ ۸؍۴۷۳-۴۷۴ إدارۃ القرآن کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
==============================
*✍ کتبہ عبدالباری عزیز ارریہ وی*
*خادم و منتظم مدلل احکام ومسائل گروپ*
*_خـادم تـدریـس و نائب ناظـم/ مـدرسـتـہ الـمـسـاکــیــن صــدیــقیــہ بــسـگڑہ ارریـہ بہار_*
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
_بـتـاریـخ -۷- ذالحجہ: ۱۴۳۹ ھ_
_مـطـابـق -19- اگست: 2018_
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
*تبدیلی کرکے گنہگار نہ بنتے ہوئے اس کو اسی طرح آگےبھی شئیر کرے*
http://T.me/mudallalahkamomasail
Comments
Post a Comment