قربانی کےلیے جانور لی گئی اتفاقا وہ گابھن یعنی حاملہ نکل گئی،
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
سوال : یا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئل ذیل کتب بارےمیں،. ایک گائے قربانی کےلیے لی گئی تھی اتفاقاً وہ گابھن یعنی حاملہ نکل گئی
اس کی قربانی جائز ہے یا اس کے عوض میں دوسری گائے قربان کرسکتے ہیں
مدلل جواب عنایت فرمائیں ،،؟
(المستفتی محمد عرفان قاسمی)
*جـــواب نــمــبــر 5:*
#الجواب___وباللہ___التوفیق
گابھن جانور کی قربانی مکروہ ہے جبکہ ولادت کا وقت قریب ہو۔
(۲) گائے ، بکری ، اونٹنی اور بھینس وغیرہ کو ذبح کرنے پر اس میں سے اگر مردہ بچہ نکلے ، تو امام ابوحنیفہؒ کے قول کے مطابق اس کا کھانا حرام ہے ، اگر زندہ نکلے ، تو اس کو ذبح کرکے کھانا جائز ہے ؛ اس لیے مذکورہ مردہ بچے کو ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، اس بچے کا کھانا حرام ہے ، البتہ گائے کی قربانی صحیح ہو جائے گی ، کیوں کہ قربانی کرنے والے کو اس کا گابھن ( حاملہ ) ہونا معلوم ہی نہ تھا ۔ ( مجمع الانہر : ۲ ؍ ۵۱۲ ) [ ۱ ]
#فقط_واللہ____اعلم____بالصواب
*⬇📚📚والدلیل علی ما قلنا📚📚*⬇
ان تقاربت الولادۃ یکرہ ذبحھا
شامی زکریا ٩_٤٤١_کراچی_٦_٣٠٤_ھندیه_٥_٢٨٧_خانیه_٣_٣٦٧_فتاوی_محمودیه_ڈابھیل_١٧_٣١٩_مسائل_قربانی_وعقیقہ_٢٧_
کتاب المسائل_٢_٢٦٩
(۲) [۱](ولا يحل الجنين بذكوة أمه أشعر أو لا) حتى لو نحر ناقة أو ذبح بقرة أو شاة فخرج من بطنها جنين ميت لم تؤكل عند الإمام وزفر وحسن بن زياد؛ لأنه مستقل في حياته فيشترط فيه ذكوة استقلالية (وقالا يحل إن تم خلقه) لقوله - عليه الصلاة والسلام - ذكاة الجنين ذكاة أمه، وبه قالت الأئمة الثلاثة.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر-عبد الرحمن بن محمد بن سليمان المدعو بشيخي زاده؛ يعرف بداماد أفندي (م:۱۰۷۸هـ):۲؍۵۱۲، کتاب الذبائح، قبیل: فصل فيما يحل أكله وما لا يحل، ط: دار إحياء التراث العربي)
قال: "ومن نحر ناقة أو ذبح بقرة فوجد في بطنها جنينا ميتا لم يؤكل أشعر أو لم يشعر" وهذا عند أبي حنيفة. (الهداية في شرح بداية المبتدي- علي بن أبي بكر بن عبد الجليل الفرغاني المرغيناني، أبو الحسن برهان الدين (م:۵۹۳هـ): ۴؍۳۵۱، کتاب الذبائح،قبیل: فصل: فيما يحل أكله وما لا يحل، ت: طلال يوسف، ط: دار احياء التراث العربي - بيروت)
نوٹ:اگر کسی جانور کا گابھن ہونا پہلےسے معلوم ہو، تو اس کی قربانی مکروہ ہوگی:
شاة أو بقرة أشرفت على الولادة قالوا يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد، وهذا قول أبي حنيفة - رحمه اللہ تعالى - لأن عنده الجنين لا يتذكى بذكاة الأم، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الھندیۃ:۵؍۲۸۷، كتاب الذبائح،الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ط: دار الفکر)
==============================
*✍ #کتبہ_العبد_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی*
#خادم_ومنتظم_مدلل_احکام_ومسائل_گروپ
*_خـادم تـدریـس و نائب ناظـم/ مـدرسـتـہ الـمـسـاکــیــن صــدیــقیــہ بــسـگڑہ ارریـہ بہار_*
*رابطہ نمبر☜:9760624634/*
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
_بـتـاریـخ -۸- ذالحجہ: ۱۴۳۹ ھ_
_مـطـابـق -20- اگست: 2018_
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
*تبدیلی کرکے گنہگار نہ بنتے ہوئے اس کو اسی طرح آگےبھی شئیر کرے*
http://T.me/mudallalahkamomasail
Comments
Post a Comment