بارش کی وجہ سے ایک ہی مسجدمیں،دومرتبہ نماز عید اداکرنا
بارش کی وجہ سے ایک ہی مسجد میں دو مرتبہ نماز عید ادا کرنا
سوال ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ عید کی نماز گاؤں کی ایک مسجد میں ہوئی اور بہت لوگ نماز پڑھنے سے رہ گئے اور بارش بہت زیادہ ہورہی ہے اور گاؤں میں ایک ہی مسجد ہے اور کوئی ایسی جگہ نہیں ہے، جہاں پر عید کی نماز پڑھائی جاسکے اور ان سب لوگوں نے بھی اسی مسجد میں نماز ادا کرلی، آیا ان لوگوں کی نماز جو بعد میں ادا کرلی ہے، وہ نماز ہوگی یانہیں؟ یااس نماز کو دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے؟
المستفتی: عبد الحکیم
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر وہ بڑا گاؤں جس کی آبادی تین ساڑھے تین ہزار یا اس سے زائد کی مردم شماری ہے اور نماز عید ادا کرنے کے لئے کوئی بڑا ہال وغیرہ نہیں ہے، تو ایسی صورت میں ان لوگوں کی نماز بھی بلا کراہت ادا ہوگئی ہے، جنہوں نے بعد میں نماز پڑھی ہے۔ اور اگر چھوٹاگاؤں ہے، جس کی آبادی تین ہزار سے کم ہے اور اس میں کوئی بازار وغیرہ بھی نہیں
، ہے، تو ایسے گاؤں میں عید کی نماز چونکہ صحیح نہیں ہوئی ہے؛ اس لئے دونوں قسم کے لوگوں کی نماز عید صحیح نہیں ہوئی اور سب کی نماز نفل ہوجائے گی اور نفل باجماعت مکروہ ہے۔
صلوۃ العید في القریٰ تکرہ تحریماً، أي لأنہ اشتغال بما لایصح؛ لأن المصر شرط الصحۃ الخ۔ وفي الشامیۃ: فہو نفل مکروہ لأدائہ بالجماعۃ الخ (در مختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب العیدین، مطلب في الفال والطیرۃ، زکریا ۳/۴۶، کراچي ۲/۱۶۷، حاشیۃ الطحطاوي علی الدر، باب العیدین، کوئٹہ ۱/۳۵۱)
#واللہ_سبحانه_وتعالی_اعلم_بالصواب
==============================
*✍ #کتبہ_العبد_عبدالباری_عزیز_ارریہ_وی*
#خادم_ومنتظم_مدلل_احکام_ومسائل_گروپ
*_خـادم تـدریـس و نائب ناظـم/ مـدرسـتـہ الـمـسـاکــیــن صــدیــقیــہ بــسـگڑہ ارریـہ بہار_*
*رابطہ نمبر☜:9760624634/*
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
_بـتـاریـخ
_مـطـابـق -13_اکتوبر_ 2018_
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
*تبدیلی کرکے گنہگار نہ بنتے ہوئے اس کو اسی طرح آگےبھی شئیر کرے*
گروپ لنک 👇
@mudallalahkamo_masail
#چــیــنـل_لــنـک 👇
http://T.me/AbdulBariAziz
#گوگل_ویب_سائٹ 👇
http://abdulbariedits.blogspot.com/
*#سبسکرائب_ضرور_کرے*
Comments
Post a Comment